میرِ جمہوریت میر حاصل خان بزنجو ، ایک عہد ساز رہنما کی یاد میں
ان کی سوچ، نظریات اور محبتیں آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں
“میر حاصل خان بزنجو صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، وہ عوامی وقار اور اصول پسندی کی علامت تھے۔”
نیشنل پارٹی کے سابق صدر، سابق سینیٹر، میرِ جمہوریت اور عدم تشدد کے علمبردار، میر حاصل خان بزنجو آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر اُن کے خیالات، نظریات اور محبتیں آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ اُن کی شخصیت ایک درخشاں چراغ کی مانند تھی، جو ہر دل کو روشنی اور گرمی بخشتا تھا۔
میر صاحب سے میری آخری گفتگو اُن کے انتقال سے تقریباً دس دن قبل ہوئی۔ فون پر حال احوال پوچھا تو بتایا کہ وہ اپنے آبائی گاؤں نال میں ہیں۔ میں نے پوچھا: “کراچی کب آئیں گے؟” تو میر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا: “آپ آجائیں۔” چند دن بعد میں کراچی پہنچ گیا۔
افسوس، ایک صبح جب میں ضروری کام کے لیے بازار میں تھا، سہ پہر کے قریب ایک پیغام موصول ہوا کہ میر صاحب کو آغا خان اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ دل میں امید تھی کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے، مگر چند گھنٹوں بعد یہ اندوہناک خبر ملی کہ: “میر صاحب انتقال کر گئے ہیں”۔ یہ لمحہ میرے لیے ناقابلِ یقین تھا۔
دوسرے دن کراچی سے نال روانگی کا سفر شروع ہوا۔ میر صاحب کے جسد خاکی کے ساتھ ہزاروں لوگ قافلے میں شریک تھے۔ ہر شہر، ہر بستی اور ہر گاؤں میں لوگوں نے عقیدت اور آنکھوں میں آنسو لیے اپنے محبوب رہنما کو الوداع کہا۔ یہ منظر اس تاریخی استقبال کی یاد دلاتا تھا جب ہم نے گوادر ایئرپورٹ سے شہر تک اُن کا والہانہ خیرمقدم کیا تھا۔
میر حاصل خان بزنجو ایک ایسی شخصیت تھے جو ہر شخص کو عزت اور محبت دیتے تھے۔ سیاست میں اُن کا انداز اصول پسندی، شرافت اور بردباری کی روشن مثال تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو حوصلہ دیتے اور کبھی مایوس نہ کرتے۔ میری اُن سے عقیدت ذاتی بھی تھی اور نظریاتی بھی، اور وہ ہمیشہ عزت و محبت سے نوازتے تھے۔
میر صاحب کا مشن عوام کی خدمت، جمہوریت کا استحکام اور بلوچستان کے حقوق کا تحفظ تھا۔ اُن کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں میر حاصل خان بزنجو کے مشن سے وفاداری نبھانے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمی
میر جمہوریت و عدم تشدد — میر حاصل خان بزنجو کا تاریخی شعر
“ایک ہی جان ہے تو لے یا خدا لے”
تحریر: آدم قادربخش
فشریز سیکریٹری، نیشنل پارٹی