- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

مبارک قاضی کو اپنے مداحوں سے جدا ہوئے ایک سال بیت گیا۔ظریف بلوچ

- Advertisement -

144

پسنی کے تپتے ہوئے ریگستانوں پر چل کر مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس شہر میں کئی انمول خزانے مدفون ہیں، یہاں کے میدانوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے مجھے اس شہر کی تاریخ کو دہرانا کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ یہ شہر خود اپنی تاریخ بتا رہا ہوتا ہے۔

آج 16 ستمبر کا سورج طلوع ہوچکا ہے اور شہر کے باسی ایک نئے دن کے ساتھ نئی امیدیں لیکر اپنے روز مرہ کی کاموں میں مشغول ہیں، قاضی کے مداح اداس ہیں کیونکہ ایک سال پہلے اس شہر کے قاضی اپنے مداحوں سے بچھڑے کر ابدی نیند سو گئے تھے ۔ قاضی کے انتقال کے بعد ان کی دو کتابیں شائع ہوچکی ہے اور اس سے پہلے قاضی کی ایک درجن کے قریب کتابیں مارکیٹ کی ذینت بن چکی ہیں۔

- Advertisement -

ستکگیں ء شہر ء گڈی بنی آدم
16 ستمبر 2023 کو پسنی کا ملنگ نما شاعر مبارک قاضی اپنے لاکھوں مداحوں سے بچھڑ گئے تھے اور آج ایک سال خاموشی کے ساتھ بیت گیا۔

کبھی کبھار پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے میں قاضی کہی گئی باتوں کو ورد کرنے لگ جاتا ہوں پھر خیال آتا ہے کہ اس عارضی دنیا میں ہر جاندار کو فنا ہونا ہے۔

مبارک قاضی کی پہلی برسی کی مناسبت سے جب سوشل میڈیا سے منسلک کچھ دوست ڈاکومنٹری فلم بنارہے تھے تو اتنا یاد آیا کہ زندگی کے کچھ خوبصورت لمحے ہم نے بھی اس ملنگ نما شخص کے ساتھ گزارے ہیں، البتہ ہمارا موضوع شاعری اور ادب سے ہٹ کر ہوتا تھا اور کبھی کبھار غصے کے عالم میں جب اپنے عہد کے قاضی مبارک مجھ سے کہا کرتے تھے کہ کب آپ لوگ بلوچی زبان میں نثر نگاری کرو گے؟
اسی ڈر سے میں نے اپنے موبائیل میں چند بلوچی افسانے محفوظ کئیے تھے کہ قاضی کی خواہش کا احترام ہو۔

- Advertisement -

آج ایک سال بعد جب میں پسنی کے تنگ و تاریک گلیوں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں یا مستانی ریک کے تپتے ہوئے صحرا پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں یا جڈی کے ساحل کی دیدار کرنے جاتا ہوں تو فورا ذہن میں خیال آتا ہے کہ قاضی نہ صرف ایک شاعر رہا ہے بلکہ اپنے عہد کا سب سے بڑا شاعر تھا جو ہمیشہ امر رہے گا۔

مبارک قاضی اپنی شاعری میں مستقبل کی پیش گوئیاں بھی کرتا تھا اور زیادہ تر پیشگوئیاں عصر حاضر میں سچ ثابت ہوئیں۔

کئی دہائیوں تک بلوچی زبان پر راج کرنے والا مبارک قاضی موت کے بعد بھی راج کررہا ہے اور شاید آنے والے دنوں میں بلوچی زبان میں قاضی جیسا شاعر پیدا نہ ہو، کیونکہ اپنی سر زمین کی مٹی سے محبت کرنا والا شاعر عشق و عاشقی کو بھی مصروں میں ایسا قید کرتا تھا کہ بس سمجھنے والے سمجھ سکتے تھے۔

بلوچی زبان میں ایک سادہ اور عام فہم شاعری کرنے والا قاضی ہر وقت یہ کہتا تھا کہ میں عام لوگوں کے لئے شاعری کرتا ہوں اگر عام لوگ میری شاعری کو نہ سمجھ سکیں تو شعر لکھنے اور کہنے کا کچھ مطلب نہیں۔

وہ شاعری میں جدیدیت کا استعمال کم اس لئے کرتا تھا کیونکہ اسکے قارئین اور سامعین سمندر کی مست موجوں کے ساتھ مقابلہ کرنے والے مچھیرے ہوتے ہیں، لہلاتی فصلوں کو کاشت کرنے والے کسان، روزانہ دیہاڑی دار مزدور ، ادب کے طالب علم اور علم کے پیاسے وہ طالب علم ہیں جو ابھی تک کسی منزل کی تلاش میں سرگرداں عمل ہیں۔

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

بریکنگ نیوز
میرِ جمہوریت میر حاصل خان بزنجو ، ایک عہد ساز رہنما کی یاد میں. آدم قادربخش کوئٹہ؛ ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جی ڈی اے کا اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ کے تحت شاہی بازار اور جنت بازار کی تزئین و آرائش کا آغاز جلد ہوگا پاکستان کوسٹ گارڈز کی جانب سے مینگرووز ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے عالمی دن پر عملی اقدامات نئے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا بجلی اور پانی کی شدید قلت، عوام سراپا احتجاج، ایم پی اے سے فوری نوٹس لینے کی اپیل گوادر کے مسائل سے متعلقہ نمائندوں کی لاتعلقی ۔ کے بی فراق پسنی پولیس کی بڑی کامیابی ساحل گلاب قتل کیس کے ملزمان گرفتار، ہوشربا انکشافات وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کا گوادر یونیورسٹی اور پاک چائنا انسٹیٹیوٹ کا دورہ ٹوباغ وارڈ میں ٹرانسفارمر کی خرابی پر شہری سراپا احتجاج، سڑک بلاک. مزید تفصیلات جانئیے چیئرمین گوادر بندرگاہ نورالحق بلوچ نے گوادر پورٹ پر قائم 1.2 ایم جی ڈی صلاحیت کے ڈیسالینیشن پلانٹ کا... گوادر پورٹ اتھارٹی کے واٹر فلٹر پلانٹ کا پانی غیر معیاری ، بدبو اور گندگی سے عوام پریشان ایران نے امریکا سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی نامعلوم افراد کا ژوب کے علاقے میں ناکہ بندی۔مزید جانئیے نیشنل پارٹی گوادر کا احتجاجی مظاہرہ ۔ پانی، بجلی، بارڈر بندش اور ٹرالنگ پر شدید تحفظات کا اظہار