- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

پورٹ کو تعمیر ہوئے کئی سال گزر گئے مگر افسوس کی بات اس پر ہے کہ ابھی تک ہم گوادر باسیوں کو پینے کا پانی میسر نہیں.سید معیارجان نوری

31

محترم چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان
محترم کورکمانڈر بلوچستان
محترم وزیراعظم پاکستان
محترم وزیراعلی بلوچستان
محترم گورنر بلوچستان

- Advertisement -

آپ تمام محترم حضرات سے گوادر کے کچھ اہم ایشوز پر عرض کرنا چاہتا ہوں، گوادر کو پاکستان کے ماتھے کا جھومر، سی پیک کا شہر کہا جاتا ہے جو کہ یقینا ایک اعزاز سے کم نہیں، ہم چاہتے ہیں اور دعا گوہ ہیں کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئیے گوادر ایک اہم رول ادا کرے۔
گوادر میں بڑے بڑے میگا پروجیکٹس پر کام ہو رہا ہے جن میں سے کافی پروجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں اور کچھ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ پورٹ کو تعمیر ہوئے کئی سال گزر گئے مگر افسوس کی بات اس پر ہے کہ ابھی تک ہم گوادر باسیوں کو پینے کا پانی میسر نہیں، تین بڑے ڈیموں کی موجودگی کے باوجود ہم گوادر باسی پیسے در در بھٹک رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ بحران مصنوعی ہے کیونکہ ڈیم پانی سے بھرے پڑے ہیں اور تینوں ڈیمز گوادر سے کنکٹڈ ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ گوادر پیاسا مر رہا ہے
ایران سے بجلی کی مکمل سپلائی کے باوجود ہم گوادر باسی دس دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے عزاب میں مبتلا ہیں
ہمارے سمندر کو ٹرالرز اور گجہ مافیا نے تباہ کیا ہوا ہے روزانہ کی بنیاد پر آکر ہمارے سمندر کو لوٹ رہے ہیں ہمارا ذریعہ معاش یہی ماہیگیری اور سمندر سے وابسطہ ہے اس کو بھی نہیں بخشا جارہا۔
محترم چیف صاحب آپ کو یاد ہوگا جب آپ گوادر تشریف لائے تھے تو میں نے آپ کے اور سابقہ وزیراعلی کے سامنے بھی اپنے مسائل گوشگزار کئے تھے اور آپ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مسائل پر غور کیا جائے گا۔
محترم ہمیں اس وقت زندگی کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں جن میں پینے کا پانی، بجلی کی فراہمی سب سے اہم اور انتہائی بنیادی ضرورتیں ہیں۔
محترم صاحبان جب گوادر باسی انتہائی تنگ اور بیزاری کی عالم میں مجبوری کی عالم میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے لگتے ہیں تب کہا جانے لگتا ہے کہ یہ شرپسند اور منفی لوگ ہیں سی پیک کے خلاف ہیں ترقی کے خلاف ہیں اور پھر ان پر ایف آئی آر اور کیس کئے جاتے ہیں، اب آپ محترم صاحبان ہمیں خود بتائیں ہم کریں تو کیا کریں، ہم گوادر باسی نہ ترقی کے خلاف اور نہ ہی شرپسند ہیں ہم ستائے ہوئے ہیں تنگ کئے ہوئے ہیں، ہم صرف اپنے بنیادی سہولیات کی مانگ کرتے ہیں جو کہ ریاست کی زمہ داری ہے،
گوادر میں ادارے موجود ہیں مگر نااہلی کی وجہ سے یا دانستہ طور پر عوام کو عزاب میں مبتلا کئے ہوئے ہیں جن میں جی ڈی اے ، کیسکو، پی ایچ ای، محکمہ فشریز سر فہرست ہیں۔
میں بحثیت چئیرمین ضلع کونسل گوادر آپ محترم حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ ہم گوادر باسیوں کی حالت پر ترس کھائیں اور ہمیں اس عزاب سے نکالیں-
امید کرتا ہوں کہ آپ میری گزارش پر خاص توجہ دینگے۔

- Advertisement -

سید معیارجان نوری
چئیرمین ضلع کونسل گوادر

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

بریکنگ نیوز
گوادر میں زاہد المیعاد اور عیر معیاری اشیاء خوردونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف چیرمین گوادر کے اقداما... گوادر ڈرینج سسٹم یا موت کا کنواں۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر گوادر کے علاقے چھب کلمتی کے مقام پرایک تیز رفتار ایرانی پک اپ زمباد گاڑی ٹائر... پاکستان کوسٹ گارڈز کا خفیہ اطلاع پر گوادر کے ساحلی علاقے سربندر میں سرچ اپریشن 2 عدد بوریوں میں چھ... گزشتہ دنوں وندر کے مقام پر پنجگور کے طالب علموں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہے۔ع... سیلاب کو نہ روکیے رستہ بنائیے۔ ناصر رحیم سہرابی 27 فروری کو گوادر میں ھونے والی طوفانی بارشوں کے پانی تاحال ملا فاضل چوک اور اسکے ارد گرد کے گھروں ا... پسنی کے ساحل پر ایک سبز کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا۔ کوئٹہ پریس کلب میں پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک روزہ ورکشاپ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کا دورہ گوادر بلوچستان کے عوام کسی بھی مصبیت کی گھڑی میں خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔وزیر اعلٰی بلوچستان ہزاروں مکانات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، کشتیاں، گھر، دیواریں، مال مویشی اور دیگر اشیاء ضائع ہوچکے ہیں. ضلع کیچ کی سب تحصیل ہوشاپ سے پنجاب کے رہائشی پانچ افراد اغوا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رکن اور ملا فاضل چوک کے متاثرین نے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن ک... گوادر، پریس کلب کی نومنتخب کابینہ ارکان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا.