- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

شھید فدا چوک پر ایک اور خاندان انصاف رسائی کے لیے پہنچ گیا۔

90

تربت ( گوادر سٹی نیوز ڈیسک) شھید فدا چوک پر ایک اور خاندان انصاف رسائی کے لیے پہنچ گیا۔

مند عبدوی بارڈر میں گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے قتل ہونے والے نوجوان شعیب حمید کے اہل خانہ نے تربت میں شھید فدا چوک پر بالاچ مولا بخش احتجاجی کیمپ آکر انصاف رسائی کے لیے احتجاج کا اعلان کردیا۔

- Advertisement -

مقتول شعیب حمید کے والد عبدالحمید اور ان کے چاچا ماسٹر عبدالغنی نے شھید فدا چوک پر بالاچ مولابخش احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کیچ ہمیشہ سے مزاحمت کی علامت ہے، یہاں لوگوں نے ظلم و جبر کے خلاف مظلوموں کے ساتھی رہ کر حق و انصاف کی لڑائی کے لیے تاریخ رقم کی ہے۔

ہم مند سے 120 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اس امید پر آئے ہیں کہ کیچ ہمیں انصاف دلانے میں وہی کردار نبھائے گا جو اس کا وطیرہ رہا ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہاکہ شعیب ہمارے گھر کا کفیل تھا وہ ایرانی سرحد سے تیل کا کاروبار کرتا تھا دو دن قبل ایف سی نے صبح 8 بجے انہیں بلوچ ہونے کے ناطے گولی مار کر قتل کردیا، ہم شعیب کی لاش لے کر احتجاج کے لیے تربت آنا چاہتے تھے مگر ہمیں شعیب کی لاش لے کر تربت احتجاج کے لیے آنے نہیں دیا گیا۔

ایف سی نے مند سے ناصر آباد تک راستوں کی ناکہ بندی کی اور ہر گاڑی کی تلاشی لی ان کا گمان تک کہ لاش کسی گاڑی میں ہوسکتی ہے جسے تربت منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ اس ریاست میں بلوچ ہونا ایک جرم بن گیا ہے، ریاست کے ہاتھوں کوئی بلوچ محفوظ نہیں چاہیے وہ مزدور ہو یا طالب علم یا سیاسی کارکن ان کا مقدر گولیاں ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ انصاف ملنے تک شھید فدا چوک پر دھرنا دیتے رہیں گے، شعیب کا سوئم، چہلم اور برسی بھی اسی چوک پر مناکر دنیا اور بلوچ عوام کو آگاہ کریں گے کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے، ہم نے گھر میں بیٹھ کر پرسہ منانے کی روایت بند کردی ہے اب ہمارے پرسہ چوک اور سڑکوں پر ہوں گے کیوں ہمارے نوجوان اب طبعی موت نہیں مرتے بلکہ انہیں ماردیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایرانی بارڈر پر بلوچوں کو قتل کرنا بند کیا جائے بارڈر پر ٹوکن سسٹم ختم کرکے شناختی کارڈ کے زریعے ہر بلوچ کو کاروبار کی اجازت دی جائے، ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات سے سرنڈر کرچکی ہے اس لیے وہاں ایف سی اور مختلف اداروں نے اپنا کنٹرول قائم کیا ہے اور وہ ایسے لوگوں کو جانے کی اجازت دیتے ہیں جو ان کے سورس ہیں، مند میں بلوچ شناخت کو اچھے بلوچ اور برے بلوچ میں تقسیم کردیا گیا ہے، جو اچھے بلوچ ہیں وہ ریاست کے منظور نظر ہیں اور ہم جیسے عام لوگ جو اداروں کے سورس نہیں برے بلوچ ہیں۔ بشکریہ ڈیلی ایگل کیچ

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

بریکنگ نیوز
گزشتہ سات دنوں سے پسنی کے پرانے واٹر بکس کو بجلی سپلائی کرنے والی ٹرانسفارمر میں خرابی، پانی کی سپلا... ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی وزیر خزانہ و سیکریٹری خزانہ سے ملاقات آکرہ کور ڈیم سے جیوانی پائپلائن کی جوائنٹنگ کا کام شروع کر دی گئی ہے۔ مومن علی بلوچ نے ایکسئین پبلک ہیلتھ گوادر کے چارج سھنبال لیا. ہوشاپ میں ایم ایٹ سی پیک شاہراہ بند، ٹوکن مافیا نے انتظامیہ کو بلیک میل کرنا شروع کردیا، کارروائی کی... گوادر کربلا بن گیا، شدید گرمی میں شہری بوند بوند کو ترس گئے۔نیشنل پارٹی کے راہنما اور سابق تحصیل نا... گوادر کے عوام کو مصیبت کے وقت کھبی تنہا نہیں چھوڑئیں گے. رکن قومی اسمبلی این اے کیچ کم گوادر حاجی م... غلط منصوبہ بندیوں سے شہر کا اسٹرکچر تباہ ہوگیا۔گوادر سول سوسائٹی و رہنماؤں کا گوادر پریس میں سمینار ... گوادر میں زاہد المیعاد اور عیر معیاری اشیاء خوردونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف چیرمین گوادر کے اقداما... گوادر ڈرینج سسٹم یا موت کا کنواں۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر گوادر کے علاقے چھب کلمتی کے مقام پرایک تیز رفتار ایرانی پک اپ زمباد گاڑی ٹائر... پاکستان کوسٹ گارڈز کا خفیہ اطلاع پر گوادر کے ساحلی علاقے سربندر میں سرچ اپریشن 2 عدد بوریوں میں چھ... گزشتہ دنوں وندر کے مقام پر پنجگور کے طالب علموں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہے۔ع... سیلاب کو نہ روکیے رستہ بنائیے۔ ناصر رحیم سہرابی 27 فروری کو گوادر میں ھونے والی طوفانی بارشوں کے پانی تاحال ملا فاضل چوک اور اسکے ارد گرد کے گھروں ا...