- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

شھید فدا چوک پر ایک اور خاندان انصاف رسائی کے لیے پہنچ گیا۔

71

تربت ( گوادر سٹی نیوز ڈیسک) شھید فدا چوک پر ایک اور خاندان انصاف رسائی کے لیے پہنچ گیا۔

مند عبدوی بارڈر میں گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے قتل ہونے والے نوجوان شعیب حمید کے اہل خانہ نے تربت میں شھید فدا چوک پر بالاچ مولا بخش احتجاجی کیمپ آکر انصاف رسائی کے لیے احتجاج کا اعلان کردیا۔

- Advertisement -

مقتول شعیب حمید کے والد عبدالحمید اور ان کے چاچا ماسٹر عبدالغنی نے شھید فدا چوک پر بالاچ مولابخش احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کیچ ہمیشہ سے مزاحمت کی علامت ہے، یہاں لوگوں نے ظلم و جبر کے خلاف مظلوموں کے ساتھی رہ کر حق و انصاف کی لڑائی کے لیے تاریخ رقم کی ہے۔

ہم مند سے 120 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اس امید پر آئے ہیں کہ کیچ ہمیں انصاف دلانے میں وہی کردار نبھائے گا جو اس کا وطیرہ رہا ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہاکہ شعیب ہمارے گھر کا کفیل تھا وہ ایرانی سرحد سے تیل کا کاروبار کرتا تھا دو دن قبل ایف سی نے صبح 8 بجے انہیں بلوچ ہونے کے ناطے گولی مار کر قتل کردیا، ہم شعیب کی لاش لے کر احتجاج کے لیے تربت آنا چاہتے تھے مگر ہمیں شعیب کی لاش لے کر تربت احتجاج کے لیے آنے نہیں دیا گیا۔

ایف سی نے مند سے ناصر آباد تک راستوں کی ناکہ بندی کی اور ہر گاڑی کی تلاشی لی ان کا گمان تک کہ لاش کسی گاڑی میں ہوسکتی ہے جسے تربت منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ اس ریاست میں بلوچ ہونا ایک جرم بن گیا ہے، ریاست کے ہاتھوں کوئی بلوچ محفوظ نہیں چاہیے وہ مزدور ہو یا طالب علم یا سیاسی کارکن ان کا مقدر گولیاں ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ انصاف ملنے تک شھید فدا چوک پر دھرنا دیتے رہیں گے، شعیب کا سوئم، چہلم اور برسی بھی اسی چوک پر مناکر دنیا اور بلوچ عوام کو آگاہ کریں گے کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے، ہم نے گھر میں بیٹھ کر پرسہ منانے کی روایت بند کردی ہے اب ہمارے پرسہ چوک اور سڑکوں پر ہوں گے کیوں ہمارے نوجوان اب طبعی موت نہیں مرتے بلکہ انہیں ماردیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایرانی بارڈر پر بلوچوں کو قتل کرنا بند کیا جائے بارڈر پر ٹوکن سسٹم ختم کرکے شناختی کارڈ کے زریعے ہر بلوچ کو کاروبار کی اجازت دی جائے، ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات سے سرنڈر کرچکی ہے اس لیے وہاں ایف سی اور مختلف اداروں نے اپنا کنٹرول قائم کیا ہے اور وہ ایسے لوگوں کو جانے کی اجازت دیتے ہیں جو ان کے سورس ہیں، مند میں بلوچ شناخت کو اچھے بلوچ اور برے بلوچ میں تقسیم کردیا گیا ہے، جو اچھے بلوچ ہیں وہ ریاست کے منظور نظر ہیں اور ہم جیسے عام لوگ جو اداروں کے سورس نہیں برے بلوچ ہیں۔ بشکریہ ڈیلی ایگل کیچ

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

بریکنگ نیوز
ضلع کیچ کی سب تحصیل ہوشاپ سے پنجاب کے رہائشی پانچ افراد اغوا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رکن اور ملا فاضل چوک کے متاثرین نے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن ک... گوادر، پریس کلب کی نومنتخب کابینہ ارکان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا. اقامہ ہولڈر ہوتے ہوئے بھی نواز شریف اور جام کمال کے کاغذات منظور کیے گئے، اختر مینگل 7دن میں مطالبات تسلیم نہ کیے تو مقدمہ بلوچ عوام کی عدالت میں لے کر جائیں گے، بلوچ یکجہتی کمیٹی الٹی میٹم کا وقت ختم، کل پریس کانفرنس میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے،ماہ رنگ بلوچ افغان مہاجرین کی طرح بلوچوں کو اسلام آباد سے ڈیپورٹ کر کے پیغام دیا گیا کہ بلوچستان ایک الگ ملک ہے، ... گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کُنرکی بازار پیشکان میں الیکٹرانک واٹر کولر کا افتتاح کردیا گیا. چائینہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹوٹ سینٹر میں آن لائن کانفرنس کا انعقاد غیر قانونی شکار، ممنوعہ جال کا استعمال؛ بلیو وہیل کو معدومی کا خطرہ لاحق. شریف ابراہیم میر عبدالغفور کلمتی کرکٹ اکیڈمی کے زیر اہتمام انٹر اسکولز کرکٹ چمپیئن شپ گوادر میں گرلز اسکولز کافائ... یونائٹڈ نیشن ڈیلوپمنٹ پروگرام (UNDP)کے وفد کا فشریز آفس گوادر کا دورہ. گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول شپانکو بازار پسنی میں سالانہ اسپورٹ گالہ کا افتتاح کردیا گیا نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام عظیم الشان شمولیتی جلسہ سے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا ... گوادر، تجاوزات کے خلاف آپریشن ،متاثرین کا داد رسی کون کرے گا،شریف ابراھیم